Garden-fresh finds · Free shipping over $65 · Browse the beds

Majmua Prof. Ahmad Rafique Akhtar 1 (4 Books in 1 Volume) philosophy اس کتاب کے مطالعے سے

SKU: 72561302812

4.4
USD1800.00 USD1823.00

Pay in 4 interest-free payments of $450.00 Learn more

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Aug 21 - Aug 26

Description

اس کتاب کے مطالعے سے پنجاب کے اس گم شدہ باب سے آگاہی ہوتی ہے کہ پنجاب باہر سے آنے والے حملہ آوروں کا کس جی داری سے مقابلہ کرتا رہا ہے۔ بدھا پرکاش کی یہ مختصر لیکن جامع کتاب ٹھوس تاریخ شواہد کی مدد سے مہاراجا پورس کی شخصیت اور کردار کو اس طرح اجاگر کرتی ہے اور اہل پنجاب خصوصاً اپنے اس ہیرو کی بہادری اور خودداری پر فخر کر سکتے ہیں۔ ارسطو جیسے باکمال استاد کے شاگرد سکندر اعظم نے یونان کی چھوٹی سی ریاست مقدونیہ سے اپنے وقت کی تین بڑی تہذیبوں(بابل، مصر اور ایران) کو زیر کیا لیکن جب وہ چوتھی بڑی تہذیب (انڈس )کو فتح کرنے کے لیے آگے بڑھا تو دریائے جہلم کے کنارے اس کا سامنا مہاراجا پورس سے ہوا۔ تاریخی حوالو ں کے مطابق اگر چہ اس جنگ میں پوری دنیا کو فتح کرنے کا خواب دیکھنے والے سکندر اعظم کو فتح حاصل ہوئی تھی لیکن پورس کی مزاحمت، اس فاتح عالم سکندر کی آخری جنگ تھی۔ مصنف نے کتاب میں پورس کی شخصیت و کردار کے علاوہ اس کا خاندانی پس منظر اور ایرانی بادشاہ دارا کے لیے، جسے سکندر نے شکست دی تھی، پورس کی مدد اوراُس دَور کے پنجاب کا احوال بھی رقم کیا ہے ۔ نیز سکندر اور پورس کی جنگ کے نتیجے سے متعلق مختلف مغربی مؤرخین کے متضاد اور مختلف نکتہ ہائے نظر کا تجزیہ کرتے ہوئے تاریخی حقائق جاننے کی بھی کوشش کی گئی ہے ۔

زیرنظر کتاب انقلابی لیڈر چی گویرا کی یادداشتوں پر مشتمل ہے۔ چی گویرا،ارجنٹینا کے انقلابی لیڈر تھے۔ وہ 14 مئی 1928 ءکو ارجنٹائن میں پیدا ہوئے۔ اپنی نوجوانی سے ہی وہ کتب بینی کے شوقین تھے، ان کے گھر میں تین ہزار سے زائد کتابوں پر مشتمل ذخیرہ تھا۔چی بنیادی طور پر میڈیکل کے طالب علم تھے، تعلیمی کیرئیر کے دوران ہی ان میں سیاحت کا شوق پیدا ہوا اور 1950ءسے 1953ءتک انہوں نے تین بار سارے جنوبی امریکہ کی سیاحت کی۔ تینوں بار انہوں نے متعد ممالک کے سفر کیے جن میں چلی ، پیرو ، ایکواڈور ، کولمبیا ، وینزویلا ، پانامہ ، برازیل ، بولیویا اور کیوبا شامل ہیں۔ان سفروں پر کئی کتابیںاور خود ان کی یاداشتیں شائع ہو چکی ہیں۔ان سفروں کے دوران چی کے مشاہدے میں جہاں بے پناہ اضافہ ہوا، وہیں جب وہ دیہات اور چھوٹے چھوٹے شہروں اور قصبوں سے گزرے تو وہاں کے رہنے والے باشندوں کی حالت زار، غربت اور بھوک اور بیماریوں نے ان کی آنکھیں کھول دیں۔ وہ غریبوں کے لیے بہت حساس دل رکھتے تھے اوراس مشاہدے سے اس نتیجے پر پہنچے کہ تقریباً تمام جنوبی امریکہ اس وقت کٹھ پتلی حکمرانوں کے زیر تسلط ہے، اور ان کی آڑ میں سرمایہ داری نظام یہاں جڑ پکڑ رہا ہے جس کے پیچھے کوئی اور نہیں بلکہ خود امریکہ ہے۔وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ یہ دونوں یعنی سرمایہ دارانہ نظام اور اس کا سرپرست امریکہ کبھی بھی غریبوں کے دوست نہیں ہوسکتے اور ان کی تسلط سے اس خطے کو آزاد کرانے کے لیے انہیں اپنی تعلیم چھوڑ کر انقلابی راہ اپنانا پڑے گی۔چی گویرا نے لاطینی امریکہ میں انقلابات کی قیادت کی۔ اسی بنیاد پر تیسری دنیا کے ممالک میں اُن کو ایک ہیرو کے طور پر جانا اور مانا گیا۔ وہ دنیا میں طبقاتی نظام کے خاتمے اور سوشلسٹ انقلاب کی ایک لازوال شناخت رکھتے ہیں۔ انہوں نے بولیویا میں سوشلسٹ انقلاب کی قیادت کرتے ہوئے جان کا نذرانہ پیش کیا۔ امریکی سی آئی اے نے اُن کو جسمانی طور پر تو ختم کردیا لیکن اُن کا نظریہ اور جدوجہد دنیا کے محکوم لوگوں کے لیے ایک امید بن کر ہمیشہ کے لیے ہوگئے۔ آج بھی چی گویرا، دنیا میں ایک مقبول ترین شخصیت کے طور پر اپنی حیثیت اور مقام رکھتے ہیں۔

Number of Pages: 237

Pages : 241

Language: UrduNumber of Pages: 599

Majmua Prof. Ahmad Rafique Akhtar 1 (4 Books in 1 Volume) philosophy اس کتاب کے مطالعے سےLanguage: UrduNumber of Pages: 599

Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy

You may also like

recommand products